جان آفرین

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خالق حیات، زندگی، پیدا کرنے والا، جان ڈالنے والا خدائے تعالٰی۔ "اس جان بچنے پر اور اپنے تک پہنچ جانے پر . جان افریں کا شکر ادا کیا"      ( ١٩٠٥ء، حورعین، ١٦٥ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جان' کے ساتھ مصدر 'آفریدن' سے مشتق صیغۂ امر 'آفرین' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب 'جان افرین' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خالق حیات، زندگی، پیدا کرنے والا، جان ڈالنے والا خدائے تعالٰی۔ "اس جان بچنے پر اور اپنے تک پہنچ جانے پر . جان افریں کا شکر ادا کیا"      ( ١٩٠٥ء، حورعین، ١٦٥ )

جنس: مذکر